Yeh Shab Yeh Khayal-o-Khuwab Tere | Nasir kazmi poetry


یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا
باقی ہیں تمام رنگ میرے

آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں
یادوں کے بجھے ہوئے سویرے

دیتے ہیں سراغ فصل گل کا
شاخوں پہ جلے ہوئے بسرے

منزل نہ ملی تو قافلوں نے
رستے میں جما لئے ہیں ڈیرے

جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے

رودادِ سفر نہ چھیڑنا ناصر
پھر اشک نہ تھام سکیں گے میرے

Wao

Related Posts with Thumbnails